ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / سزائے موت کے لیے پھانسی ہی سب بہتر متبادل،سپریم کورٹ میں مرکز کا جواب

سزائے موت کے لیے پھانسی ہی سب بہتر متبادل،سپریم کورٹ میں مرکز کا جواب

Wed, 25 Apr 2018 12:30:25    S.O. News Service

نئی دہلی،24اپریل(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)سپریم کورٹ نے موت کی سزا کے طریقوں کو لے کر دائر درخواست پر منگل کو سماعت کی۔اس دوران مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کر کہا کہ لیتھل انجکشن کے ذریعے موت کی سزا پھانسی کے مقابلے بہت ظالمانہ ہے۔اس لئے موت کی سزاکے لیے پھانسی ہی بہتر متبادل ہے۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے گزشتہ سماعت میں مرکزی حکومت سے پوچھا تھا کہ کیاسزائے موت میں پھانسی کے علاوہ کوئی اور متبادل طریقہ بھی ہو سکتا ہے۔اس کے بعد مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں حلف نامہ دائر کیا ہے۔مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں داخل اپنے حلف نامے میں کہا کہ پھانسی کی سزا، موت کی سزا کے لئے فوری اور محفوظ طریقہ ہے۔لیتھل انجکشن اور فائرنگ کے ذریعے موت کی سزا دیناغیر انسانی اور ظالمانہ ہے۔مرکزی حکومت نے یہ بھی کہا کہ پھانسی کی سزا صرف رےئریسٹ آف رےئر کیس میں دی جاتی ہے۔لہٰذا پھانسی کی سزا بہتر ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ سماعت میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ سزائے موت کے معاملے میں پھانسی کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ بھی تلاش کیا جائے، جس میں موت کم تکلیف میں ہو۔صدیوں سے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ پین لیس ،ڈیتھ کی کوئی برابری نہیں۔ایسے میں سائنس میں آئی تیزی کی وجہ سے موت کے دوسرے طریقوں کو تلاشا جائے۔سپریم کورٹ میں عرضی داخل کر کے کہا گیا ہے کہ پھانسی کی جگہ موت کی سزا کے لئے کسی دوسرے کے اختیارات کو اپنایا جانا چاہئے۔پھانسی کو موت کا سب سے دردناک اور وحشیانہ طریقہ بتاتے ہوئے زہر کا انجیکشن، گولی مارنے، گیس چیمبر یا بجلی کے جھٹکے دینے جیسی سزا کا مطالبہ کیا گیا ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے پھانسی سے موت میں 40منٹ تک لگتے ہیں، جبکہ گولی مارنے اور الیکٹرک چیئر پر صرف چند منٹ میں موت ہو جاتی ہے۔


Share: